دیوار کوئی شے نہیں در کوئی شے نہیں - شاہد ذکی

دیوار کوئی شے نہیں در کوئی شے نہیں 


دیوار کوئی شے نہیں در کوئی شے نہیں 

گھر سے نکل کے دیکھیے گھر کوئی شے نہیں 


سب کچھ فنا ہے تو یہ مسافت ہے کس لئے 

کس شے کی جستجو ہے اگر کوئی شے نہیں 


دل کی تسلّی کے لئے گٹھڑی اٹھائی ہے

ورنہ درون _ رخت _ سفر کوئی شے نہیں


خالی ہوں سو خلاؤں کا دکھ جانتا ہوں میں 

مجھ کو ادھر بساؤ جدھر کوئی شے نہیں 


سودا نہ ہو تو سر ہے فقط کاسہ _ سفال 

جذبہ نہ ہو تو دست _ ہنر کوئی شے نہیں 


اک لہر آٸی اور اٹھا لے گئ اسے 

جو مجھ سے کہہ رہا تھا بھنور کوئی شے نہیں 


تو منظر _ مہیج سے آگے نہیں گیا 

میری نظر میں تیری نظر کوئی شے نہیں 


دیکھا تھا پہلی بار تو سب کچھ یہیں پہ تھا

لیکن یہ کیا کہ بار _ دگر کوئی شے نہیں 


شاہد ثمر جڑوں سے زیادہ حسیں سہی 

لیکن ہوا چلے تو ثمر کوئی شے نہیں 


شاہد ذکی

Post a Comment

0 Comments