کسی بھی طور نہ فکرِ معاش کی میں نے - تحسین علی نقوی

کسی بھی طور نہ فکرِ معاش کی میں نے


کسی بھی طور نہ فکرِ معاش کی میں نے

جہانِ شوق میں تیری طلب رکھی میں نے


تمہاری سمت سے ہٹتا کہاں ہے قبلۂ دل

گمانِ دوئی کی تقصیر تک نہ کی میں نے


سدھر گئے ہیں وہ سب لوگ بھی جنہیں بخشی

تمہارے قرب کے صدقے سے آگہی میں نے


فرازِ دار بنے کس طرح نشاط انگیز

ادائے خاص یہ میثم سے سیکھ لی میں نے


یہ کون اب کے طلب گارِ جلوہ ہے تحسین

یہ کس کو طور پہ دیکھا ابھی ابھی میں نے


تحسین علی نقوی

Post a Comment

0 Comments